ڈھوک قائم دین کا 38 سالہ مدثر حسین دو معصوم بچوں کا باپ تھا، جو کل عید کے روز ایک لالچی درندے نے قبرستان میں پستول سے گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس قتل کے محرکات میں بہنوں اور بیٹیوں کی جائیداد ہڑپ کرنے کی ہوس، جہالت میں لتھڑی بدمعاشی اور پولیس کی اپنے فرض سے کوتاہی شامل ہیں۔

ڈھوک قائم دین کے محمد صفدر کے پاس 65 کنال زرعی زمین تھی۔ محمد صفدر کی ایک ہی ہمشیرہ تھی اور کوئی اور بھائی نہ تھا۔ چند برس قبل محمد صفدر بسترِ مرگ پر تھے کہ ان کا بیٹا محمد احسن انہیں علاج کے بہانے چکوال شہر لے آیا۔ ہسپتال کی بجائے احسن اپنے باپ کو اراضی ریکارڈ سینٹر پر لے گیا اور اپنے باپ کی 65 کنال جگہ اپنے نام پر حبہ کروا لی۔ جب بہن کو پتہ چلا تو وہ سٹپٹا گئیں۔ مجبور بہن نے بھائی سے کہا کہ میرا حصہ سترہ اٹھارہ کنال بنتا ہے، آپ مجھے صرف دس مرلے کا فرض دے دیں تاکہ اخوت والے دس مرلے کے فرض پر قرضہ لے کر اپنا مکان بنا لوں۔ اس مجبور عورت کا پہلا مکان غربت نگل چکی تھی، مگر محمد صفدر اور ان کے بیٹے محمد احسن کو یہ بھی گوارا نہ ہوا۔

پھر مجبور عورت نے حبہ چیلنج کر دیا۔ احسن، جو راولپنڈی کے قریب کسی فیکٹری میں کام کرتا تھا، کو شک تھا کہ اس کی پھوپھی کا داماد محمد یونس ان کی مدد کر رہا ہے۔ پچھلے ستمبر میں احسن پنڈی سے دس بارہ ساتھیوں کے ہمراہ محمد یونس کے گھر آ دھمکا اور یونس کو ان کی بیوی اور بچوں کے سامنے مارا پیٹا اور اسلحہ دکھا کر دھمکی دی۔ اتنے میں گاؤں کے لوگ آ گئے اور حملہ آور بھاگ گئے، بھاگتے ہوئے دو موٹر سائیکل بھی وہاں چھوڑ گئے۔ محمد یونس نے ملہال چوکی پر درخواست دی اور ڈی ایس پی کو حملہ آوروں کی ویڈیو دکھائی۔ پولیس نے موٹر سائیکل بھی برآمد کر لیے، لیکن پھر بھی احسن اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج نہ ہوا۔ محمد یونس نے ڈی ایس پی کی منتیں کیں، مگر ڈی ایس پی اور ملہال چوکی انچارج نے انہیں راضی نامے کے لیے مجبور کر دیا۔ یوں راضی نامہ ہونے کی وجہ سے احسن اور اس کے ساتھیوں کی اور دھاک بیٹھ گئی۔ راضی نامہ تو ہو گیا لیکن حبہ والا کیس ابھی چل رہا تھا۔

محمد یونس کا بھانجا مدثر حسین ملہال مغلاں میں شیل پمپ کے ساتھ مچھلی فروخت کر کے اپنے بچوں کے لیے روزی کماتا تھا۔ وہ بلکسر منڈی سے مچھلی لا کر ملہال مغلاں میں فروخت کرتا تھا۔ مدثر کے دو بیٹے ہیں—بڑا ساڑھے پانچ سال کا اور چھوٹا چار سال کا۔ چھوٹے بیٹے کے دل میں سوراخ ہے اور اس کا آپریشن آنے والے دنوں میں راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے ہونا تھا۔

کل عید کے روز مدثر حسین اپنے بھائیوں اور اپنے ماموں محمد یونس کے ہمراہ عید کی نماز پڑھنے گیا۔ عید کی نماز کے بعد یہ لوگ قبرستان میں اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے گئے۔ محمد احسن، اس کا بھائی اور خالہ زاد بھی وہاں آ گئے۔ احسن نے پستول پہلے ہی کاک کر رکھا تھا۔ قبرستان میں تلخ کلامی ہوئی۔ مدثر اپنے ماموں اور بھائی کو بتا رہا تھا کہ احسن کے پاس پستول ہے، اتنے میں احسن نے پیٹھ پیچھے سے مدثر پر گولی چلا دی اور مدثر موقع پر ہی جان بحق ہو گیا۔

مدثر کا زمین کے اس تنازعے سے کوئی تعلق واسطہ نہ تھا۔ اس کا قصور فقط اتنا تھا کہ وہ محمد یونس کا بھانجا تھا۔ مدثر کو قتل کرنے کے بعد احسن نے مدثر کے بھائی عبد الحمید اور ماموں محمد یونس پر بھی گولی چلانے کی کوشش کی، لیکن پستول نہ چلا۔

کل جب ڈی ایس پی چوآسیدن شاہ سرکل مدثر حسین کی لاش پر آئے تو انہیں یہ بتا دیا گیا کہ یہ لاش آپ کی وجہ سے گری ہے۔ اگر پولیس بروقت اپنا فرض ادا کرتی تو آج مدثر کے دو ننھے بچے یتیم نہ ہوتے اور نہ کسی کا سہاگ اجڑتا۔