چھپڑ بازار: (فیصل ٹائمز میڈیا گروپ) شہر کی اہم تجارتی اور عوامی گزرگاہ انارکلی بازار گزشتہ رات کی صفائی مہم کے باوجود آج بھی شہریوں اور تاجروں کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بیوٹیفکیشن کے نام پر کی جانے والی صفائی کے دوران کرین کے ذریعے مٹی کے کچھ ڈھیر تو ہٹا دیے گئے، تاہم کئی مقامات پر مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔

خصوصی طور پر پہلوان جوس ہاؤس کے سامنے کچرے کا ایک بڑا ڈھیر بدستور موجود ہے، جس کے باعث نہ صرف اس معروف جوس ہاؤس تک رسائی مشکل ہو گئی ہے بلکہ انارکلی بازار کا ایک اہم داخلی راستہ بھی مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے گاہکوں، دکانداروں اور روزمرہ کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ حکام کو اس مسئلے سے آگاہ کیا، مگر ابھی تک کوئی مؤثر عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ تاجروں کے مطابق صفائی کے دوران کرین کے ذریعے مٹی کے ڈھیر تو ہٹا دیے گئے، لیکن پہلوان جوس ہاؤس کے سامنے موجود کچرے کو نہیں اٹھایا گیا، جس کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور لوگوں کو آمد و رفت میں دشواری کا سامنا ہے۔

شہریوں نے بھی اس صورتحال پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف کچرے کا مسئلہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بن چکا ہے۔ پیدل چلنا، گاڑی پارک کرنا یا بازار تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور بلدیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس کچرے کو ہٹا کر عوام کو سہولت فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ انارکلی بازار شہر کے بڑے اور مصروف تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد خریداری کے لیے آتے ہیں۔ ایسے میں پہلوان جوس ہاؤس کے سامنے کچرے کے ڈھیر کی موجودگی نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ صفائی اور صحت کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کر رہی ہے۔

اس حوالے سے بلدیہ حکام کا کہنا ہے کہ مسئلہ ان کے نوٹس میں ہے اور جلد از جلد کچرے کو ہٹانے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔ تاہم تاجروں اور شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔