تھانہ سٹی چکوال میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کاشف ذوالفقار کی زیر صدارت ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہریوں نے اپنے مختلف مسائل پیش کیے، جن میں جائیداد کے تنازعات، قبضہ مافیا کے مسائل اور دیگر شکایات شامل تھیں۔
کھلی کچہری میں خاص طور پر خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے یہ واضح ہوا کہ عوامی سطح پر پولیس تک رسائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہری اپنے مسائل براہِ راست اعلیٰ حکام کے سامنے رکھ رہے ہیں۔
🏠 جائیداد اور قبضے کے مسائل زیر بحث
کھلی کچہری کے دوران متعدد درخواستیں جائیداد اور قبضہ کے معاملات سے متعلق سامنے آئیں۔ ایک بیوہ خاتون نے شکایت کی کہ ان کی ملکیتی دکان پر ایک بااثر شخص نے قبضہ کر رکھا ہے اور نہ ہی وہ دکان خالی کر رہا ہے اور نہ ہی گزشتہ دو ماہ سے کرایہ ادا کیا جا رہا ہے۔
ڈی پی او کاشف ذوالفقار نے اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شکایت درست ثابت ہوئی تو متاثرہ خاتون کو نہ صرف دکان کا قبضہ واپس دلایا جائے گا بلکہ واجب الادا کرایہ بھی دلوایا جائے گا۔
🚔 پولیس کارکردگی اور طریقہ کار
ڈی پی او کاشف ذوالفقار کے بارے میں شرکاء نے بتایا کہ وہ ایک سنجیدہ اور متوازن رویہ رکھنے والے افسر ہیں جو کھلی کچہریوں میں فوری اور جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے مکمل تحقیق اور انکوائری کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی درخواست پر کارروائی سے قبل متعلقہ اداروں سے مکمل رپورٹ لی جاتی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس طریقہ کار کو شہریوں نے بھی مثبت قرار دیا۔
🚨 مختلف درخواستوں پر کارروائی
کھلی کچہری کے دوران ایک شہری کی درخواست پر کارروائی کی گئی جس میں بتایا گیا کہ اس کا موٹر سائیکل کئی ماہ قبل چوری ہو گیا تھا اور ابھی تک بازیاب نہیں ہوا۔ اس موقع پر متعلقہ ایس ایچ او کو ہدایت دی گئی کہ شہری کو ممکنہ طور پر متبادل سہولت فراہم کی جائے۔
اسی طرح ایک اور شکایت پر ڈی پی او نے تھانہ ڈوہمن اور پولیس چوکی ملہال مغلاں سے متعلق الزامات پر انکوائری کے احکامات جاری کیے۔ شکایت میں بعض اہلکاروں پر مبینہ ملی بھگت کے الزامات لگائے گئے تھے، جن کی مکمل چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔
🧠 میڈیا اور عوامی سوالات
اس موقع پر نائب صدر چکوال پریس کلب رجسٹرڈ راجہ افتخار احمد نے ڈی پی او سے دو اہم سوالات بھی کیے۔ پہلا سوال موٹر سائیکل کی قانونی حیثیت سے متعلق تھا کہ اگر کسی شہری کو پولیس کی جانب سے موٹر سائیکل دی جائے تو اس کی قانونی پوزیشن کیا ہوگی۔
ڈی پی او نے وضاحت کی کہ ایسے موٹر سائیکل عام طور پر بے نامی یا ضبط شدہ ہوتے ہیں، اور ضرورت مند شہریوں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری کو اس حوالے سے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کی ذمہ داری پولیس ادارے کی ہوتی ہے۔
🎥 میڈیا کوریج اور اخلاقی پہلو
دوسرے سوال میں میڈیا نمائندگان کی کوریج سے متعلق پابندی پر بات کی گئی۔ اس پر ڈی پی او نے واضح کیا کہ وہ میڈیا پر کسی قسم کی پابندی کے حق میں نہیں، تاہم اخلاقی حدود اور خواتین کی عزت و وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب خواتین اپنے مسائل بیان کر رہی ہوں تو اس وقت احتیاط برتی جانی چاہیے تاکہ ان کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔ اس مؤقف کو صحافتی حلقوں میں بھی سراہا گیا۔
👏 صحافتی برادری کا ردعمل
تقریب میں موجود بزرگ صحافی فخر محمود مرزا نے ڈی پی او کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ملہال مغلاں تھانے کا نظام بہتر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
دیگر صحافیوں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ کھلی کچہری جیسے اقدامات عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
🧾 مجموعی جائزہ
کھلی کچہری کے اختتام پر ڈی پی او کاشف ذوالفقار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مستقل بنیادوں پر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور مختلف رپورٹس کا خود بھی جائزہ لیتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
📌 نتیجہ
تھانہ سٹی چکوال میں منعقد ہونے والی یہ کھلی کچہری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو عوامی مسائل کے حل میں مزید بہتری آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
Discussion