چکوال میں پٹواریوں کی جاری قلم چھوڑ ہڑتال مسلسل چودھویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جس کے باعث ضلع بھر میں لینڈ ریکارڈ سے متعلق متعدد سرکاری امور متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی پٹوار خانے بدستور بند ہیں جبکہ شہریوں کو فردات، انتقالات اور دیگر ضروری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

احتجاج کرنے والے پٹواریوں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات تاحال حل طلب ہیں، جس کے باعث احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سائلین کا کہنا ہے کہ دفاتر کی بندش نے روزمرہ معاملات کو شدید متاثر کر دیا ہے۔


پٹوار خانوں کی بندش سے عوامی مشکلات میں اضافہ

ضلع چکوال کے مختلف علاقوں میں پٹوار خانوں کی بندش کے باعث شہری کئی روز سے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ لینڈ ریکارڈ سے متعلق معاملات، جن میں فرد کا اجرا، انتقالات اور اراضی کی تصدیق جیسے امور شامل ہیں، شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری امور کی تاخیر کی وجہ سے نہ صرف وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ مالی اور قانونی معاملات بھی التوا کا شکار ہو رہے ہیں۔ بعض افراد کے مطابق اراضی سے متعلق معاملات میں تاخیر کاروباری سرگرمیوں اور جائیداد کی خرید و فروخت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


احتجاج کی وجوہات کیا ہیں؟

احتجاجی پٹواریوں کے مطابق ان کی ہڑتال کئی مطالبات کے حق میں جاری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر چکوال کے مبینہ ناروا اور تضحیک آمیز رویے کے خلاف بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ پٹواری برادری سکیل اپ گریڈیشن اور بندوبستی پٹواریوں کو مستقل نہ کیے جانے کے مسئلے کو بھی اہم قرار دے رہی ہے۔ احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کے پیشہ ورانہ مسائل طویل عرصے سے حل طلب ہیں، مگر متعلقہ حکام کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ رہی۔

پٹواریوں کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے سال 2015 میں منظور کی گئی ایک سمری گزشتہ کئی برسوں سے بورڈ آف ریونیو میں عملدرآمد کی منتظر ہے، جس کے باعث ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔


بندوبستی پٹواریوں کی مستقلی کا معاملہ

احتجاج کرنے والے ملازمین نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بندوبستی پٹواری گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے محکمہ ریونیو میں خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن انہیں تاحال مستقل نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کئی ملازمین 23 سے 24 سال تک محکمانہ فرائض انجام دینے کے باوجود مستقل ملازمت کے حقوق سے محروم ہیں، جسے وہ ناانصافی قرار دیتے ہیں۔ پٹواری برادری کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ان ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے فیصلہ کرے تاکہ ان میں پائی جانے والی بے یقینی ختم ہو سکے۔


نمبردار ایسوسی ایشن کی حمایت

پٹواریوں کے احتجاج کو اس وقت مزید تقویت ملی جب نمبردار ایسوسی ایشن ضلع چکوال نے بھی ان کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے احتجاجی پٹواریوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حکومت سے فوری مذاکرات اور مسائل کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر نمبردار ایسوسی ایشن چوہدری شمشیر اکبر کا کہنا تھا کہ پٹواریوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے تاکہ جاری صورتحال کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور عوامی مشکلات کم کی جا سکیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ متعلقہ حکام جلد ایسا حل نکالیں گے جس سے سرکاری امور دوبارہ معمول کے مطابق چل سکیں۔


شہریوں میں تشویش بڑھنے لگی

ہڑتال کے طویل ہونے کے باعث شہری حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت، قانونی کارروائیوں اور بینکنگ معاملات سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ لینڈ ریکارڈ دفاتر کی بندش سے کئی اہم امور رک گئے ہیں۔

بعض شہریوں نے کہا کہ اگر صورتحال مزید طول پکڑتی ہے تو عوامی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت اور احتجاجی ملازمین کے درمیان جلد مذاکرات ناگزیر ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں بروقت مذاکرات اور انتظامی ہم آہنگی عوامی مسائل کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔


احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

پٹواری رہنما چوہدری شیراز علی خان نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک قلم چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹواری برادری اپنے حقوق اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے پرامن احتجاج جاری رکھے گی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے تحفظات دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوامی خدمات کا نظام متاثر ہونے سے بچ سکے۔


نتیجہ

چکوال میں پٹواریوں کی جاری قلم چھوڑ ہڑتال نے لینڈ ریکارڈ کے نظام کو متاثر کر دیا ہے جبکہ شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف احتجاجی ملازمین اپنے مطالبات کے حل پر زور دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب عوام سرکاری دفاتر کی بحالی کے منتظر ہیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ صورتحال کا فوری اور متوازن حل نہ صرف عوامی مشکلات کم کر سکتا ہے بلکہ سرکاری اداروں پر اعتماد بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔