چکوال، سوہاوہ، دولتالہ، گوجر خان اور ملحقہ علاقوں میں مبینہ طور پر قائم غیر قانونی فلنگ اسٹیشنز کے خلاف شہریوں کی شکایات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ مختلف دیہی اور شہری علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر چلنے والے یہ فلنگ پوائنٹس نہ صرف عوام سے مبینہ دھوکا دہی کر رہے ہیں بلکہ حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے باعث کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق چوآ سیدن شاہ، کلر کہار، پیر پھلاہی، ڈھڈیال اور دیگر باؤنڈری ایریاز میں متعدد مقامات پر دکانوں کے اندر غیر قانونی طور پر پٹرول اور ڈیزل فروخت کیا جا رہا ہے، جہاں نہ کسی قسم کے حفاظتی انتظامات موجود ہیں اور نہ ہی سرکاری قواعد و ضوابط پر عملدرآمد دکھائی دیتا ہے۔
شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا پیمائش میں کمی اور دھوکا دہی کا الزام
شکایت کرنے والے متعدد شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی فلنگ پوائنٹس پر عوام کو مبینہ طور پر کم مقدار میں پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایک شہری کے مطابق اس نے ایک لیٹر پٹرول خریدا، تاہم استعمال کے دوران اندازہ ہوا کہ مقدار مبینہ طور پر آدھے لیٹر سے بھی کم تھی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف عوام کے ساتھ مالی دھوکا دہی ہے بلکہ متعلقہ اداروں کی نگرانی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر قانونی فلنگ پوائنٹس پر پیمائش کے نظام کی باقاعدہ جانچ نہ ہونے کے باعث صارفین کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
رہائشی علاقوں میں خطرناک کاروبار جاری
اہلِ علاقہ کے مطابق کئی غیر قانونی فلنگ اسٹیشن گنجان آبادیوں اور مارکیٹوں کے اندر قائم ہیں جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اکثر مقامات پر پٹرول کھلے برتنوں یا غیر محفوظ ٹینکوں میں رکھا جاتا ہے، جبکہ آگ بجھانے کے آلات اور ایمرجنسی سسٹم بھی موجود نہیں ہوتے۔
شہریوں کے مطابق ایسی صورتحال کسی بھی وقت بڑے حادثے یا آتشزدگی کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور دیگر آتش گیر مواد کی فروخت کیلئے سخت حفاظتی اصول مقرر کیے جاتے ہیں، لیکن غیر قانونی کاروبار میں اکثر ان ضوابط کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
ماضی میں بھی آتشزدگی کے واقعات رپورٹ
مقامی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے قبل بھی بعض علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے باوجود اگر غیر قانونی فلنگ پوائنٹس کے خلاف کارروائی نہ کی جائے تو مستقبل میں مزید خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
متعدد افراد نے سوال اٹھایا کہ اگر قوانین موجود ہیں تو پھر ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا اور متعلقہ ادارے خاموش کیوں دکھائی دیتے ہیں۔
سول ڈیفنس اور انتظامیہ پر سوالات
شہریوں اور سماجی حلقوں نے محکمہ سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی فلنگ اسٹیشنز کھلے عام کام کر رہے ہیں، لیکن ان کے خلاف مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ شہریوں کے مطابق ایسے کاروبار صرف مالی بے ضابطگیوں ہی نہیں بلکہ عوامی جان و مال کیلئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سول ڈیفنس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور باقاعدہ انسپیکشنز کے ذریعے ایسے غیر قانونی کاروبار کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
عوام کا فوری کارروائی کا مطالبہ
اہلِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر چکوال، مختلف تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی فلنگ پوائنٹس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، پیمائش کے نظام کی جانچ کی جائے اور حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
متعدد افراد نے مطالبہ کیا کہ رہائشی علاقوں میں قائم خطرناک فلنگ پوائنٹس کو فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
ماہرین کی رائے
توانائی اور شہری سلامتی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی فلنگ اسٹیشن نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عوامی تحفظ کیلئے بھی بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسے کاروبار میں غیر معیاری اسٹوریج، ناقص پیمائش اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی عام دیکھی جاتی ہے، جس کے باعث حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین نے زور دیا کہ متعلقہ اداروں کو جدید نگرانی، مستقل چیکنگ اور سخت قانونی کارروائی کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پانا ہوگا۔
نتیجہ
چکوال اور گردونواح میں مبینہ غیر قانونی فلنگ اسٹیشنز کے خلاف بڑھتی عوامی شکایات نے شہری تحفظ، شفافیت اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شہری حلقوں کو امید ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے مؤثر کارروائی کریں گے تاکہ عوام کو مالی نقصان اور ممکنہ حادثات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
Discussion