چکوال میں جدید زرعی ٹیکنالوجی اور منافع بخش فصلوں کے فروغ کیلئے مختلف اداروں کی جانب سے سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں بارانی ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ چکوال کے زیر اہتمام “بلیک بیری کاشت، مینجمنٹ اور ویلیو ایڈیشن” کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں کسانوں، کاروباری شخصیات، زرعی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

ورکشاپ میں چکوال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر چوہدری عامر نجیب بھٹہ نے اپنے وفد کے ہمراہ خصوصی شرکت کی۔ ان کے ہمراہ نائب صدر راجہ عبدالمنان، ایگزیکٹو ممبر راجہ ظفر اقبال، سابق صدر شیخ ہارون اور سینئر ممبر فاروق گوندل بھی موجود تھے۔

تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر راولپنڈی ڈویژن سید شاہد افتخار بخاری تھے جبکہ ورکشاپ کے انعقاد میں ڈائریکٹر ڈاکٹر ہارون کی زیر نگرانی بارانی ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے اہم کردار ادا کیا۔

جدید زرعی فصلوں کی اہمیت پر زور

ورکشاپ کے دوران ماہرین نے بلیک بیری کی کاشت، دیکھ بھال، پیداوار میں اضافے اور ویلیو ایڈیشن سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔

زرعی ماہرین کے مطابق بلیک بیری ایک جدید اور نسبتاً منافع بخش فصل تصور کی جاتی ہے جس کی مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں طلب بڑھ رہی ہے۔ ماہرین نے کسانوں کو جدید طریقہ کاشت، موسمی تقاضوں اور فصل کی بہتر پیداوار سے متعلق معلومات فراہم کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جدید زرعی ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو بارانی علاقوں میں بھی کسان بہتر منافع حاصل کر سکتے ہیں۔

چکوال چیمبر آف کامرس کا زرعی ترقی پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر چکوال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری چوہدری عامر نجیب بھٹہ نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور جدید فصلوں کا فروغ ملکی معیشت کیلئے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلیک بیری جیسی جدید اور منافع بخش فصلوں کے فروغ سے نہ صرف کسانوں کی آمدن میں اضافہ ممکن ہے بلکہ مقامی صنعت، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدات کے شعبے کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں زرعی شعبے میں جدت تیزی سے فروغ پا رہی ہے، اس لیے پاکستان میں بھی کسانوں کو جدید تربیت اور نئی ٹیکنالوجی سے روشناس کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تربیتی ورکشاپس کو کسانوں کیلئے مفید قرار

چوہدری عامر نجیب بھٹہ نے بارانی ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تربیتی ورکشاپس کسانوں اور نوجوانوں کیلئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسانوں کو جدید فصلوں، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کے حوالے سے مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تو زرعی شعبے میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

تقریب میں شریک کاروباری شخصیات کا کہنا تھا کہ زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن سے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہے۔

ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے امکانات

ورکشاپ کے دوران ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خام زرعی اجناس فروخت کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جائے تاکہ کسانوں کو زیادہ منافع حاصل ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق بلیک بیری سے مختلف فوڈ پراڈکٹس، جوسز اور دیگر مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں جن کی مارکیٹ میں طلب موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مقامی سطح پر فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف کسانوں کی معاشی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

نوجوانوں کی زرعی شعبے میں دلچسپی

تقریب میں شریک مقررین نے نوجوان نسل کو زرعی شعبے کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ جدید دور میں زراعت صرف روایتی کاشتکاری تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ اور برآمدات جیسے نئے شعبے بھی شامل ہو چکے ہیں۔

شرکاء کے مطابق اگر نوجوانوں کو جدید زرعی تربیت اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اس شعبے میں کامیاب کاروبار قائم کر سکتے ہیں۔

شرکاء میں اسناد تقسیم

تقریب کے اختتام پر صدر چکوال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری چوہدری عامر نجیب بھٹہ نے ورکشاپ میں شریک افراد میں اسناد تقسیم کیں جبکہ منتظمین کی کاوشوں کو سراہا گیا۔

شرکاء نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی تربیتی سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ کسانوں اور نوجوانوں کو جدید زرعی رجحانات سے آگاہ کیا جا سکے۔

نتیجہ

چکوال میں بلیک بیری کی کاشت اور ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے منعقدہ تربیتی ورکشاپ کو زرعی شعبے میں ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید زرعی منصوبے، تربیت اور ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال نہ صرف کسانوں کی آمدن بڑھا سکتا ہے بلکہ مقامی صنعت اور ملکی برآمدات کیلئے بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔