تعارف
کچھ لوگ اپنی زندگی کو صرف ایک پیشے تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ ہر مرحلے پر نئے میدانوں میں اپنی پہچان بناتے ہیں۔ ظہیر عباس کمانڈو بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے فوجی خدمات کے بعد سماجی خدمت اور کھیلوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر کے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔
فوجی زندگی سے کامیابی کی بنیاد
چکوال کے نواحی علاقے تھنیل فتوحی سے تعلق رکھنے والے ظہیر عباس نے نوجوانی میں ہی ملک کی خدمت کا عزم کیا اور 2003 میں پاک فوج کا حصہ بن گئے۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے بطور کمانڈو نہایت ذمہ داری سے فرائض انجام دیے۔
انہوں نے پیشہ ورانہ تربیت کے مختلف مراحل کامیابی سے مکمل کیے، جن میں غوطہ خوری، نشانہ بازی اور فضائی چھلانگ جیسے مشکل کورسز شامل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارشل آرٹس میں مہارت حاصل کرتے ہوئے بلیک بیلٹ بھی اپنے نام کیا۔
صرف عسکری میدان ہی نہیں، بلکہ کھیلوں میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ایتھلیٹکس میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے 3 کلومیٹر دوڑ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا ان کی محنت اور نظم و ضبط کا ثبوت ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تربیتی خدمات
ظہیر عباس کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بطور انسٹرکٹر مختلف ممالک کے نوجوانوں کو تربیت فراہم کی۔ اس تجربے نے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارا بلکہ عالمی سطح پر بھی انہیں ایک قابل انسٹرکٹر کے طور پر پہچان دی۔
2021 میں انہوں نے فوج سے باعزت ریٹائرمنٹ لی، مگر ان کی عملی زندگی کا سفر یہیں ختم نہیں ہوا۔
سماجی خدمت کا نیا باب
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 2023 میں “مددگار تھنیل فتوحی” کے نام سے ایک فلاحی پلیٹ فارم قائم کیا۔ اس کے ذریعے انہوں نے اپنے گاؤں کے مستحق افراد کی مدد کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔
ان کی کاوشوں سے کئی ضرورت مند خاندانوں کے لیے گھر تعمیر کیے گئے، جبکہ گاؤں میں نکاسی آب کے لیے ایک اہم منصوبہ بھی مکمل ہوا جس سے بنیادی سہولیات میں بہتری آئی۔
مزید برآں، مستحق بچیوں کی شادیوں میں مدد، سکول کے بچوں کے لیے تعلیمی سامان کی فراہمی، اور ماحول کی صفائی جیسے اقدامات بھی ان کے فلاحی کاموں کا حصہ رہے۔
معاشرتی اصلاح کی کوششیں
ظہیر عباس نے صرف مالی مدد تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ معاشرتی رویوں میں بہتری لانے کی بھی کوشش کی۔ انہوں نے فوتگی کے موقع پر غیر ضروری اخراجات کے خلاف مہم چلائی، جس کے نتیجے میں سادہ طرزِ زندگی کو فروغ ملا۔
یہ اقدام نہ صرف لوگوں کے لیے مالی آسانی کا باعث بنا بلکہ ایک مثبت سماجی تبدیلی کی بنیاد بھی بنا۔
کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار
گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا۔ کبڈی، رسہ کشی، دوڑ اور دیگر کھیلوں کے ایونٹس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
خاص طور پر ایک ہی دن میں چار مختلف مقابلوں کا کامیاب انعقاد ایک منفرد کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ ان ایونٹس میں کامیاب کھلاڑیوں کو انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی، جس سے نوجوانوں میں کھیلوں کا رجحان بڑھا۔
اثرات اور اہمیت
ظہیر عباس کی کاوشیں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ ایک فرد اگر خلوص نیت اور عزم کے ساتھ کام کرے تو وہ اپنے اردگرد مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ ان کی سرگرمیوں نے نہ صرف لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کیں بلکہ نوجوانوں کو بھی ایک مثبت راستہ دکھایا۔
نتیجہ
ظہیر عباس کمانڈو کی زندگی ایک مکمل داستان ہے جس میں محنت، خدمت اور لگن کا امتزاج نظر آتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اصل کامیابی صرف ذاتی ترقی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی میں بہتری لانے میں ہے۔
Discussion