جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام احتجاج

چکوال میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بیروزگاری اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف جمعیت علمائے اسلام ضلع چکوال کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت صاحبزادہ عمر فاروق نقشبندی نے کی جبکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے میں تاجر برادری، سول سوسائٹی اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی، پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں کے خلاف نعرے درج تھے۔

عوامی مشکلات پر شدید تشویش

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ کاروباری طبقہ بھی معاشی دباؤ محسوس کر رہا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات براہ راست عوام پر پڑ رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو رہی ہیں جبکہ بجلی کے بلوں نے بھی شہریوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔

تاجر برادری اور سول سوسائٹی کی شرکت

احتجاج میں شریک تاجر برادری کے نمائندوں نے بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھاری ٹیکسز اور کاروباری اخراجات میں اضافے کی وجہ سے چھوٹے تاجروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

سول سوسائٹی کے افراد نے بھی مظاہرے میں شریک ہو کر مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف آواز بلند کی۔ مظاہرین کی جانب سے مختلف نعرے لگائے گئے جبکہ حکومت سے فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

صاحبزادہ عمر فاروق نقشبندی کا خطاب

صاحبزادہ عمر فاروق نقشبندی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات میں عام شہری کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کو باعزت انداز میں کاروبار کرنے کی سہولت نہیں دی جا رہی جبکہ ہر طرف ٹیکسز کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں اور حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت سے استعفے کا مطالبہ

مظاہرے کے دوران مقررین نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اگر عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

صاحبزادہ عمر فاروق نقشبندی نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ کی کال دیتے ہیں تو چکوال سے بھی بڑی تعداد میں کارکن اور شہری اس میں شرکت کریں گے۔

چکوال یونیورسٹی واقعے پر تشویش

مظاہرے کے دوران مقررین نے چند روز قبل چکوال یونیورسٹی میں مبینہ طور پر اسرائیلی پرچم لہرانے کے واقعے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کو شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

اختتامی دعا اور اظہار تشکر

احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا جبکہ ملک پاکستان کی سلامتی، استحکام اور عوامی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔