چکوال میں ایک بار پھر سرکاری دفاتر میں عوامی سہولتوں سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جہاں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے آئے، مگر گھنٹوں انتظار کے باوجود انہیں ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔
مقامی ذرائع کے مطابق دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ صبح سے دفتر کے باہر موجود رہے، مگر انہیں بار بار یہ کہہ کر ٹالا گیا کہ افسر کسی اہم میٹنگ میں مصروف ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف وقت ضائع کیا بلکہ لوگوں کو ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
کچھ عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ طویل انتظار کے بعد اچانک اطلاع دی جاتی ہے کہ متعلقہ افسر دفتر سے جا چکے ہیں، جس سے شہریوں میں مایوسی اور ناراضی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے واقعات عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھاتے ہیں۔
دوسری جانب دفتر کے باہر بنیادی سہولیات کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ شدید گرمی میں نہ مناسب سایہ موجود ہے اور نہ ہی بیٹھنے کا انتظام۔ شہریوں کو ایک خراب پنکھے اور محدود نشستوں پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے، جو حالات کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے سرکاری دفاتر میں “اوپن ڈور پالیسی” کے تحت عوامی مسائل کے فوری حل کو یقینی بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ ضلعی سطح پر کئی اداروں میں اس پالیسی کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں، لیکن اس مخصوص دفتر کے حوالے سے شکایات ان دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عوام کو سرکاری دفاتر میں بروقت رسائی نہ ملے تو اس کا براہِ راست اثر عوامی اعتماد پر پڑتا ہے۔ ایک مؤثر نظام وہی ہوتا ہے جہاں شکایات سننے اور حل کرنے کا عمل شفاف اور آسان ہو۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، اچانک دورہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوام کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پالیسیوں کا اصل فائدہ تب ہی ہوگا جب ان پر مکمل اور عملی عملدرآمد ہو۔
آخر میں سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا عوامی خدمت کے دعوے عملی شکل اختیار کریں گے یا شہری اسی طرح دفاتر کے چکر لگاتے رہیں گے؟
Discussion