زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

No Photo

تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اوج و کمال پانے کے بعد اپنے علاقے اور روایات کو بھلا دیا تو ان کی موت کے ساتھ ان کا کمال بھی زوال پزیر ہو گیا. اور جن اشخاص نے عروج پاتے ہی اپنے قبیلے ، علاقے اور ثقافت کی بہبود کیلئے شب و روز کام کیا تو ان کا نام تاریخ میں روشن حروف میں لکھا گیا. میرا موضوع سخن ایسی ہی ایک ہستی ہیں جن کا تعارف اور توصیف بیان کرنا میرے بس کی بات نہیں لیکن میں ان کے کردار سے متاثر ہو کر صرف اتنا کہوں گا کہ ” ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا” جی میری مراد شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین چکوال کے غیور گاؤں ” نارنگ سیداں” سے تعلق رکھنے والے مرد قلندر پروفیسر ڈاکٹر سید آغا حسین ھمدانی ہیں. آپ کا شمار پاکستان کے نامور سکالرز میں ہوتا ہے. آپ 1944 میں نارنگ سیداں تحصیل و ضلع چکوال میں پیدا ہوئے آپ کے والد گرامی سید حسن شاہ ھمدانی جو کہ ایک درویش تھے انہوں نے فیضان نظر سے بھانپ لیا کہ ان کا یہ بیٹا آغا ہمدانی تعلیم و تحقیق کہ میدان میں بہت کامیاب ہوگا. ایک واقعہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سید آغا حسین ھمدانی محض چھ سال کی عمر میں اپنے محلے کے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ وہاں سے کسی ولی اللہ کا گزر ہوا جونہی ان کی نظر سید آغا ھمدانی پر پڑی تو ان صوفی نے آغا صاحب کو گلے سے لگا لیا اور بے ساختہ بولے کہ یہ بچہ دنیا میں بہت نام کمائے گا. مڈل تک تعلیم اپنے مقامی سکول میں حاصل کی جبکہ میڑک گورنمنٹ ہائی سکول جاتلی سے کیا بعدازاں "ایف اے” کیلئے گورنمنٹ ڈگری کالج چکوال جو کہ اب پوسٹ گریجویٹ ہے میں داخلہ لیا یہاں سے ” بی . اے ” مکمل کرنے کے بعد "گارڈن کالج راولپنڈی” میں ایم . اے” میں داخلہ لیا یہاں سے سیاسیات و تاریخ میں ایم اے پاس کیا پہلی تعیناتی 1970 میں گورنمنٹ کالج گجر خان کے شعبہ تاریخ میں بطور لیکچرار ہوئی 1971 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے "اسسٹنٹ کمشنر” راولپنڈی تعینات ہوئے بعدازاں والد کی خواہش کے مطابق جاب چھوڑ دی اور جامعہ قائد اعظم اسلام آباد میں شعبہ تاریخ میں ایم فل میں داخلہ لے لیا. پی ایچ ڈی بھی یہیں سے کی اور اپنا ایک تھیسس "سلاطین دہلی کی سرحدی پالیسی ” کے موضوع جبکہ دوسرا The Life of Ameer e Kabir Syed Ali Hamdani کے موضوع پر لکھا جوکہ آج بھی جامعہ قائد اعظم اسلام آباد کی سینٹرل لائبریری میں موجود ہیں اور تاریخ کے طلبہ کیلئے کافی مفید ہیں.آغا ھمدانی چونکہ سماجی شخصیت تھے چنانچہ انہوں نے یونیورسٹی میں "سوشل کلچرل سوسائٹی ” کی بنیاد رکھی اور اس وقت کے وزیر تعلیم کو افتتاحی تقریب میں مدعو کیا اور خود اس سوسائٹی کے صدر منتخب ہوئے. 1982 میں ” شاہ ھمدان انٹرنیشنل ایسوسی ایشن ” کی بنیاد رکھی جس کی پہلی کانفرنس کی میزبانی حکیم سعید مرحوم نے ھمدرد ہال مریڑ چوک راولپنڈی میں کی جس میں ھمدانی سادات کے اکابرین کو مدعو کیا گیا 1983 سے 1990 کے درمیان جامعہ قائد اعظم اسلام آباد، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ میں ہسٹری کے پرفیسر رہے اور Deputy Director History Commission karachi کے ڈپٹی ڈائریکٹر بھی رہے1988 میں "قومی ادارہ برائے تاریخی و ثقافتی ریسرچ” کے Principal research fellow بعدازاں Additional Director تعینات ہوئے اس کے علاوہ 1990 میں CSS Examiner, Paper settler plus Paper Checker تعینات ہوئےتعلیمی و تحقیقی میدان میں گراں قدر خدمات کے ساتھ ساتھ آپ نے چکوال کیلئے بہت خدمات سر انجام دیں. اسی دوران جب آپ تحصیل کلرکہار کے علاقہ وادی ونہار میں وسنال کے قریب قلعہ ثمرقند کے پاس سے تحقیقاتی نمونے اکھٹے کر رہے تھے کے ہلکی سی گھبراہٹ محسوس کی گاڑی کی طرف چلے اور کچھ ہی لمحوں میں آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور آپ محض 53 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے. اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جو کہ بیرون ملک دورے پر تھے انہوں نے محترم شہباز شریف کو تاکید کی اور شہباز شریف پروفیسر ڈاکٹر سید آغا حسین ھمدانی کے جنازہ میں نارنگ سیداں میں شریک ہوئے اس کے علاوہ دیگر شعبوں سے مشاہیر نے بڑی تعداد میں جنازہ میں شرکت کی.. آغا ھمدانی کے قریبی رفقا میں ڈاکٹر ریاض حسین اور ڈاکٹر غضنفر مہدی شامل ہیں.ڈاکٹر ریاض حسین قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے چئیر مین رہ چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر غضنفر مہدی کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کی کتاب ” سرائیکی مرثیہ” کی تقریب رونمائی حال ہی میں رواں ماہ نومبر میں ملتان اور اسلام آباد میں ہوئی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود حسین قریشی نے شرکت کی.پروفیسر ڈاکٹر سید آغا حسین ھمدانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا وہ چکوال کا فخر ہیں نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کا مشن دوبارہ سے بحال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

ٹیگز :