Advert

بانی منڈے سکول کے پوتے سردار رتن دیپ سنگھ کی صد سالہ تقریب میں شرکت

No Photo

چکوال ۔ چکوال شہر سے مغرب کی جانب کچھ 14 کلو میٹر دور واقع گاوں منڈے میں ایک سکول کا صد سالہ تقریب کا انعقاد ہوا۔ یہ سکول 1918ء میں ایک سکھ تاجر سردار چیت سنگھ نے اپنے والد سردار ہیرا سنگھ کی یاد میں بنوایا تھا۔ تقریب کے اس موقع پر گاوں کے لوگوں نے سکھوں کا انوکھے انداز میں استقبال کیا۔ اور گاوں سے قریبا 1 کلو میٹر باہر ان کیاستقبال کو گئے۔ اس تقریب میں شرکت کے لئے مہمان خصوصی سردار رتن دیپ سنگھ ہمراہ اپنی اہلیہ پرم جیت کور اور انکے کزن سردار گر چرن سنگھ (جن کے والد سردار موتا سنگھ نے بھی گاوں نیلہ میں 1930ء میں ایک سکول قائم کیا تھا) خصوصی طور پر بھارت کے شہر دہلی سے چکوال آئے۔مہمان گرامی جب منڈے کے علاقے میں داخل ہوئے تو پہلے سے منتظر گاوں کے باشندوں وہاں سے ہی ان کا پر جوش استقبال کرنا شروع کیا اور ایک قافلے کی صورت میں گاوں لے کر آئے۔ جہاں گلیوں کے دونوں اطراف گاوں کے دیگر افراد پھولوں کی پتیاں اٹھائے مہمان کو ویلکم کرنے کیلئے بے تاب کھڑے تھے۔ اور جب قافلہ گاوں داخل ہوا تو پھولوں کی برسات نے ماحول کو قابل دید بنا دیا۔اتنے میں ہجوم میں سے ایک زوردار آواز آئی: “ڈھول مار آ ڈھولیا۔۔۔۔” مہمان خصوصی ان تمام مناظر اور لوگوں کے اس قدر پیار، خلوص اور محبت کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ مہمانوں کو ڈھولوں کی تھاپ اور پھولوں کی برسات کے ساتھ سکول کے ہال تک لے جایا گیا جہاں تقریب منعقد ہونا تھی۔ تقریب کا انعقاد سردار چیت سنگھ کے بنائے گئے ہال میں ہوا جو انہوں نے اس زمانے میں بنوایا تھا۔ تقریب کی صدارت و سربراہی کا سہرا سردار دیپ سنگھ کوہلی کے سر سجایا گیا۔ تقریب کے آگاز میں سکول کے بچوں نے بھی مہمانوں کو ٹیبلو پیش کر کے ویلکم کہا۔تقریب کے اس موقع پر سکول کے ہیڈ ماسٹر شکیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے سردار رتن دیپ سنگھ کوہلی کے خاندان کی چکوال کی دھرتی کے لئے خدمات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ سردار چیت سنگھ کے اس زمانے میں بنائے گئے اس سکول نے بے شمار آرمی آفیسرز، اساتذہ، ڈاکٹرز اور وکلاء کی بڑی تعداد کو جنم دیا اور ان سب کا صلہ سردار چیت سنگھ کے سر جاتا ہے انہی کے مرحون منت ہے۔ ہیڈ ماسٹر شکیل احمد نے مزید اپنے الفاط میں اضافہ کرتے کہا کہ اگرچہ سردار رتن دیپ سنگھ اور ان کا پریوار ہندوستان میں مقیم ہے لیکن ان کی آتمائیں اور محبت آج بھی ہمارے یہاں زندہ ہیں۔ انہوں نے مہمانوں کو مخاطب کرکے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ سرداران دہلی آہندہ بھی اسی طرح پاکستان آتے رہینگے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے انتظامیہ چکوال سے سکول کی اپ گریڈیشن اور بچوں کے لئے ایک پلے گراونڈ کا بھی مطالبہ کیا۔ ڈسٹرک ایجوکیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد افتخار ورک نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سکول کی اس صد سالہ تقریب کو منانے کا خیال اتفاق سے ورلڈ لٹریسی دے کے موقع پر سے ہی ہمیں تھا انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شرح خواندگی %58 فیصد ہے جبکہ چکوال کی شرح خواندگی %90 فیصد ہے جس بنا پر یہ ضلع ملک کا سب سے تعلیم یافتہ ضلع گنا جاتا ہے اور اسکی ایک بنیادی وجہ یہ ہی کہ چکوالیوں کی پچھلی گزری ہوئی نسلوں کو تعلیم کے حصول سے بے حد لگاو رہا۔ انہوں نے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اس سکول کو مستقبل میں ہائیر سکینڈری سکول کا درجہ دیا جائے گا اور سکول بچوں کے لئے ایک پلے گراونڈ بھی بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب میں جب سردار رتن دیپ سنگھ کوہلی کو دعوت خطاب دیا گیا تو تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر تالیوں کی گونج میں ان کا استقبال کیا جس پر سردار صاحب نے اہلیان منڈے کا یوں ڈھیر سارا پیار اور محبتوں کو پیش کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ خطاب کے آغاز میں انہوں نے کہا “آپ لوگوں کی طرف سے اتنا پرجوش ویلکم اور اتنا ڈھیر سارا پیار دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ گئے” انہوں نے کہا کہ اگر چہ میں رہتا ہندوستان میں ہوں لیکن میری جائے پیدائش منڈے ہی کی ہے۔میں جو چکوالی پنجابی بولی اپنے لڑکپن میں بولا کرتا تھا وہ ہماری اولاد اس طرز کی پنجابی بولی نہیں بول سکتے۔ لیکن جب میں چکوال آیا اور جب وہی پرانی اپنے آباو اجداد کی پنجابی بولی سنی تو یقین جانے ایک خاص قسم کی مسرت محسوس کی۔انہوں نے کہا کہ وہ سکول اپ گریڈیشن اور سکول کیلئے ایک وسیع کھیل کے میدان کے قیام کے لئے اپنی پوری توانائیاں صرف کریں گے۔سردار گرچرن سنگھ جن کی پہلی بار پاکستان آمد ہوئی نے کہا کہ منڈے اور نیلہ گاوں کے دونوں سکولوں کی بہترین پوزیشن نے انہیں بیت متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ”میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ ہمارے ہاں ائیں اور ہم آپ کے ہاں آتے رہیں تاکہ ماضی میں ہمارے بیچ قاجم باہمی محبت و پیار دوبارہ سے بحال ہو جائے۔”

ٹیگز :

Advert