برصغیر میں تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں،رتن دیپ کوہلی

No Photo

چکوال(نمائندہ ڈھڈیال نیوز)قدیمی چکوال میں تعلیم کے بانی سردار صاحب سردار موتہ سنگھ انجہانی کے صاحبزادے گورچرن سنگھ نے اپنے اعزاز میں منعقد تقریب پذیرائی میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد موتہ سنگھ نے1912میں نیلہ میں تعلیم کی بنیاد رکھی اور پرائمری سکول کا آغاز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انتہائی کم عمری میں انہیں پورے برصغیر کا مالدار شخص بنا دیا مگر 1935کے کوئٹہ کے زلزلے نے ان کو بری طرح سے متاثر کیا اور ان کے آٹھ رکنی خاندان میں سے سات افراد لقمہ اجل بن گئے اور صرف ایک بیٹی باقی بچی،1937میں انہوں نے دوسری شادی کی ،فروغ تعلیم ان کے خون میں بسا ہوا تھا اور اب 1967 میں موتہ سنگھ کی وفات کے بعد اب ان کے بیٹوں نے تین سکول دہلی میں قائم کیے ہیں اور اس وقت13ہزار طالب علم ان سکولوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ چکوال پریس کلب میں منعقد ہونے والی تقریب کی صدارت قصبہ منڈے میں 1918 میں سکول کی بنیاد رکھنے والے سردار چیت سنگھ کے پوتے رتن دیپ کوہلی نے کی۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابرسلیم محمود نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع چکوال میں اس وقت شرح خواندگی 84.6فیصد ہے اور ضلع چکوال اس وقت پاکستان کے136اضلاع میں ساتویں نمبر پر ہے اور بے شک تعلیم کی اس ترقی میں پہلی اینٹ سردار چیت سنگھ اور سردار موتہ سنگھ نے19ویں صدی کے اوائل میں ان علاقوں میں سکولوں کی بنیاد رکھ کر کی تھی۔ خواجہ بابرسلیم نے بتایا کہ بعد ازاں اس فروغ تعلیم جدوجہد میں کئی دیگر اکابرین کا حصہ ہے مگر چکوال پریس کلب اور ضلع چکوال کے مقامی اخبارات نے بھی فروغ علم میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ رتن دیپ کوہلی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، اس موقع پر معروف مذہبی رہنما پیر عبدالشکور نقشبندی، مارشل ارشد محمود، اقبال فیروز، ڈاکٹر سعادت علی،ڈاکٹر عابد کیانی، انجینئر سعد اعجاز بھی موجود تھے۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان امن اور محبت بحال کرنے کے مشن کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کیک بھی کاٹا گیا۔

ٹیگز :