Advert

چوآسیدن شاہ کے علاقہ کہون میں سیمنٹ فیکٹریوں کی تباہ کاریوں اور سیمنٹ فیکٹری مالکان کی ہٹ دھرمی کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئی

No Photo

چوآ سیدن شاہ (ملک عظمت حیات سے )چوآسیدن شاہ کے علاقہ کہون میں سیمنٹ فیکٹریوں کی تباہ کاریوں اور سیمنٹ فیکٹری مالکان کی ہٹ دھرمی کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئی ۔ ممتاز فاؤنڈیشن منگوال چکوال کے چیئرمین اور معروف سماجی شخصیت ممتاز خان ،نائلہ ممتاز ،چیئرمین احساس وادی کہون ویلفیئر ملک اشفاق ، PTIکے راہنماء اختر شہباز ،ملک اشتیاق،منان رشید ، حارث منیر کی قیادت میں دوالمیال چوک سے احتجاجی ریلی اور سیمنٹ مافیا کے خلاف نعرے بازی کے بعد ہڑتالی کیمپ لگ گیااور تمام مطالبات منوانے تک ہڑتالی کیمپ لگانے کا بھی اعلان اس تحریک میں جس میں علاقہ کہون کی خواتین،بچوں،بوڑھوں اور جوانوں نے پھر پور شرکت کی ریلی بیسٹ وے سیمنٹ تترال کے سامنے جاکر اجتماع کی شکل اختیار کر گئی اس موقعہ پر ممتاز فاؤنڈیشن منگوال چکوال کے چیئرمین ممتاز خان نے کہا کہ سیمنٹ فیکٹریوں کے مالکان کی جانب سے دھونس دھاندلی اور بدمعاشی سے وادی ء کہون میں فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ آبی وسائل پر قبضہ سے علاقہ بھر کے حسین و جمیل وادی کی حیات کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں اور علاقہ سے پانی ختم ہی نہیں ہو رہا بلکہ یہاں کی جنگلی حیات ہی نہیں بلکہ انسانوں میں دمہ ،گردوں، آنکھوں کی بیماریاں پیدا ہونا شروع گئیں ہیں جبکہ علاقہ بھر کے گھنے جنگلوں اور پوری وادی سے پھلدار پودوں کی زندگی بھی داؤ پر لگ چکی ہے اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ سیمنٹ فیکٹریاں فوری طور بند کرکے یہاں سے دوسری جگہ منتقل کریں انہوں نے کہا کہ یہ جگہ وادی کہون یرو شیما بن چکی ہے ماؤں کے بچے پیٹ میں ہی مر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ فیکٹریاں غیر قانونی لگی ہوئی ہیں ان کا کوئی قدم بھی قانونی نہیں ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہونے سے پہلے ان فیکٹریوں کو بالکل بند کر دیا جائے انہوں نے کہا کہ ان فیکٹریوں کو فوراً بند ہو نا چاہیئے مجھے ان ماؤ ں کا افسوس ہے جن کے بیٹے فوت ہو چکے ہیں اور سب سے ذیادہ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ اس علاقہ کے سب سے ذیادہ آفیسرز کرنل ،جنرل ہیں جو کہ اب دوسرے شہریوں میں رہ رہے ہیں وہ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ جسٹس ثاقب نثار نے پچھلے دنوں کہا کہ سیمنٹ فیکٹریوں کو سی پیک کی وجہ سے بند نہیں کر سکتے تو انسانی زندگیوں پر تر جیح دیں جسطرح سیمنٹ فیکٹری کی آلودگی ، دھویں ، بیماریوں کی وجہ سے ایک بندہ گھر میں مر جاتا ہے ۔تو یہ وہی بتا سکتا ہے کہ یہ سیمنٹ فیکٹریاں اور سی پیک کتنا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں چیف جسٹس صاحب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ یہ سیمنٹ فیکٹریاں نقصان نہیں کرتی تو وہ ادھر آئیں ہم ان کو دکھائیں گے اور آپ یہاں آئیں اور بنگلے بنا کر رہیں ہم آپ کو زمین مہیاء کریں گے تو تب تک آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ علاقہ کتنا آلودہ ہو چکا ہے اور دن بدن اس میں شدت آتی جا رہی ہے انسانی جانوں کا بھی ضیاع ہو رہا ہے ۔تو مہربانی کر کے آپ ان سیمنٹ فیکٹریوں کو بند کریں کیونکہ انسانی جانیں ذیادہ قیمتی ہیں ۔اس موقعہ پر میڈیم نائلہ ممتاز نے کہا کہ یہ علاقہ جنت نظیر وادی ہیں جو یورپ سے بھی حسین ہے یہاں پر سیمنٹ فیکٹریاں لگانا انسانیت کے ساتھ ظلم ہے ہمارے پاس قدرت کا انمول تحفہ ہے اگر یہ ہی حال رہا تو آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی کیونکہ بچوں کو خالص آب و ہوا اور پینے کا صاف پانی چاہئے اگر یہ نہیں تو ہمارے اگلی نسل کو ہم موذی بیماریوں کا تحفہ دے رہے ہیں جس سے وہ دنیا میں آکراپنی زندگی کا مزا نہیں لے سکیں گے کیونکہ ان سیمنٹ فیکٹری کی چمنی سے زیریلی گیسیں نکلتی ہیں جو آب و ہوا سے انسانی جسم داخل ہو کر اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں اس سے قبل پی ٹی آئی کے راہنماء ملک اختر شہباز نے کہا کہ ہم نے اپنے علاقے ونہار سے سیمنٹ مافیاکو بھگایا اور اب ہم انشا ء اللہ علاقہ کہون سے بھی اس مافیا کا خاتمہ کر کے دم لیں گے انھوں نے کہا حکومت انکی سرپرستی چھوڑ دے اور علاقہ کہون کے عوام کے حال پر رحم و کرم کریں اگر سیمنٹ فیکٹریوں کا یہاں سے بوریا بستر گول نہ ہوا تو یہ علاقہ جانداروں کے لئے ہیرو شیما بن جائے گاملک ماجد آف دوالمیال نے کہا کہ یہاں فیکٹریاں لگانا ہی حکومت پاکستان کے قوانین اور آئین پاکستان کے خلاف ہے لہذا ہمارا چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ ان پرفوری پابندی عائد کریں چیئرمین احساس وادی کہون ویلفیئر ملک اشفاق نے خطاب میں کہا کہ جبکہ علاقہ بھر کے گھنے جنگلوں اور پوری وادی سے پھلدار پودوں کی زندگی بھی داؤ پر لگ چکی ہے جبکہ سیمنٹ فیکٹریوں نے اپنی ضرورت کا پانی دریا ء سے لانا تھا وہ بھی نہیں لایا اور علاقہ بھر کے پانی پر قبضہ کرکے علاقے میں مصنوعی خشک سالی پیدا کر دی ہے جس سے علاقے بھر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور روزانہ تینوں سیمنٹ فیکٹریاں تین نہروں کا پانی علاقہ کہون میں ہوی پمپینگ کرکے اپنی ضرورت میں لا رہی ہیں اسی طرح کٹاس راج کی تاریخی امرکنڈتالاب بھی خشک ہو چکا ہے اور کٹاس راج کے مندروں کو بھی فیکٹریوں کی تھرتھراہٹ سے شدیدخطرہ لاحق ہو گیاہے جو زمین بوس ہو سکتی ہیں بعد ازاں تمام شرکاء نے بیسٹ وے سیمنٹ کے سامنے ہڑتالی کیمپ لگا کر بیٹھ گئے اور اعلان کیا کہ جب تک سیمنٹ مالکان فیکٹریاں بند کرکے یہاں سے جاتے نہیں ہم پرامن احتجاج جاری رکھیں گے احتجاجی ریلی کے لئے سید نصیر شاہ SHOتھانہ چوآسیدن شاہ نے سیکورٹی کے مکمل انتظامات کر رکھے تھے جبکہDSPمحمد جاوید بھی موجود رہے۔

ٹیگز :

Advert