Top Advert

گورنمنٹ ڈگری کالج منگوال کے اندرونی آڈٹ کے دوران لاکھوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف

No Photo

چکوال (نامہ نگار) گورنمنٹ ڈگری کالج منگوال کے اندرونی آڈٹ کے دوران لاکھوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے ، کالج پرنسپل نے غبن میں سینئر کلرک کو موردالزام ٹھہرا دیا ۔ مذکورہ کالج کے حامل میں ہی مکمل ہونے والے اندرونی آڈٹ کے دوران آٹھ اعتراضات سامنے آئے ہیں جس کے جوابات کا لج پرنسپل محمد اکرم نے داخل کر ادئیے ہیں جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ کالج کی آغازسے اب تک لگ بھگ پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی ریکارڈ کا رجسٹر نہیں بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے کالج فنڈز کے با رے میں ماسوائے سینئر کلرک امتیاز حسین کے علاوہ کسی کو سمجھ نہیں ہے ، اندرونی آڈٹ میں اعتراض کہ 50ہزار روپے کالج کی بیرونی دیوار بنوانے میں لگائے گئے لیکن اس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے سینکڑوں طلباء کو لائبریری سیکورٹی فیس واپس نہیں کی گئی کالج لائبریری سیکورٹی فنڈزسے 41ہزار روپے سے کالج میں سیکورٹی کیمرے نصب کر ا دئیے گئے حالانکہ یہ پیسے طلباء کو واپس کرنا ہوتے ہیں سینئر کلرک نے گیاروہیں جماعت کے 56 طالب علموں جبکہ سات تیرہویں جماعت کے طالب علموں سے پراسپکٹس فیس وصول کی 56طلباء سے 100روہے ، 21بارہویں جماعت کے طالب علموں سے 300روپے جبکہ 7تیرہویں جماعت میں داخلے کے خواہشمند امیدوار وں سے مجموعی طور پر 7600جبکہ امتحانی فیس کی مد میں 4400سو روپے اور چودہویں جماعت کے طالب علموں سے بھی 5500سو روپے وصول کئے گئے لیکن ان فنڈز کا بنک ریکارڈ موجود نہیں ہے انہوں نے اعتراضات کے جوابات میں موقف اختیار کیا ہے کہ میں نے 23ستمبر2017کو بطور پرنسپل چارج سنبھالا ہے جبکہ کالج فنڈزسے جتنی بھی رقم نکالی گئی وہ اس سے قبل کی ہیں ، پرنسپل آفس لیٹر نمبر558کے تحت سینئر کلرک کو اس معاملے کا ماسٹرمائنڈ قرار دیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لانے کی سفارش کر دی ہے ۔

ٹیگز :

Bottom Advert