Top Advert

ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے سیاسی جماعتوں نے مضبوط سے مضبوط تر امیدوار میدان میں لانے کیلئے اپنے رابطے تیز کردیے ہیں

No Photo

چکوال(نامہ نگار) ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے سیاسی جماعتوں نے مضبوط سے مضبوط تر امیدوار میدان میں لانے کیلئے اپنے رابطے تیز کردیے ہیں ، بہرحال مقابلہ مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے درمیان ہی ہوگا۔ پی پی20کے ضمنی الیکشن میں یہاں مسلم لیگ ن 2018کے انتخابات میں تمام نشستیں جیتنے کیلئے پرامید ہے تو وہاں دوسری طرف پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اس شکست سے سبق حاصل کرتے ہوئے جارحانہ حکمت عملی کی تیاری میں ہے۔ ایک بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ پی پی20کا ضمنی الیکشن پی ٹی آئی نے زیادہ تر سوشل میڈیا اور فیس بک پر ہی لڑا ہے لہٰذا اب حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے براہ راست عوامی رابطوں کو ترجیح دی جائے گی۔ عام انتخابات میں ضمنی الیکشن کی طرح کا موڈ مزاج نہیں ہوگا کیونکہ دیگر اپوزیشن جماعتیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور تحریک لبیک یارسول اللہ بھی اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کیلئے سرگرداں ہے اور تحریک لبیک یارسول اللہ نے پی پی20کے ضمنی الیکشن میں سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ پیپلز پارٹی کا بھی اپنا ایک مخصوص ووٹ بینک بدستور پس منظر میں ہے جس کوسامنے لانے کیلئے پیپلز پارٹی کوشش تو کر رہی ہے مگر اس کی دال گلتی دکھائی نہیں دیتی۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ خبر سیاسی حلقوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پی پی ٹی آئی ضلع چکوال میں آئندہ چند دنوں میں ایک صفحے پر آنے والی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ پیغام تھا کہ اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیں ٹیک آف ہونے والا ہے۔ بہرحال حلقہ بندیوں کا عمل بھی جاری ہے ۔ ووٹرز فہرستیں بھی اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں لہٰذا جولائی2018کا انتخابی ماحول بننا شروع ہوگیا ہے۔

ٹیگز :

Advert