Top Advert

چکوال کے سیاسی میدان میں بڑے ناموں کی کمی نہیں۔

No Photo

چکوال (عاطف رشید سے) چکوال کے سیاسی میدان میں بڑے ناموں کی کمی نہیں۔ سردارخضرحیات، سردار اشرف خان، ائیر مارشل نورخان، امیر خان بھگوالیہ،نذرحسین کیانی، راجہ سلطان عظمت حیات، راجہ افسر خان اور دیگر نے چکوال کی سیاست میں اہم کردار ادا کیااور اپنا نام پید اکیا۔ سرداران چکوال نے کسی نہ کسی پارٹی میں شامل ہو کر چکوال کی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط رکھی لیکن بعدازاں وہ اپنے اندرونی اختلافات کا شکار ہو کر زوال پذیر ہوئے۔1985ء سے قبل پیپلزپارٹی کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ سرداران کی جانب سے دیہاتوں میں ووٹوں کیلئے ایک پرچی پڑھ کر سنائی جاتی تھی اور لوگ ان کے حق میں دعائے خیر کہہ دیتے تھے جبکہ سرداران کے اپنے علاقوں میں مخصوص لوگوں کا دباؤ ہی موثر ہتھیار تھالیکن پھر تبدیلی کی لہر اٹھی اور دبے ہوئے لوگوں کو اپنی منزل کے آثارقریب نظرآئے۔1985ء کے غیر جماعتی عام انتخابات میں نئی سیاسی شخصیات سامنے آئیں۔ جنرل عبدالمجید ملک اور چوہدری لیاقت علی خان عوام کی زبان بن کر میدان میں اترے اور پھر وہ عوام کی طاقت سے اس سردار ی طوفان کے آگے ڈھال بن گئے جو کئی عشروں سے عوام پر مسلط تھا۔جنرل عبدالمجید ملک نے ’’ کلہاڑے‘‘ سے انہیں ایسا پسپا اور شکست دی کہ پھر وہ کبھی سنبھل نہ سکے۔اس جدوجہد میں چوہدری لیاقت علی خان ان کے ہمرکاب ہوئے۔ اس جوڑی نے پھر کبھی سرداروں کے قدم جمنے نہ دئیے۔ چکوال کی سیاسی تاریخ جہاں جنرل عبدالمجید ملک کی چکوال کی سیاست پر مضبوط گرفت کو یاد رکھے گی وہاں چوہدری لیا قت علی خان کے انداز سیاست کو بھی کبھی نہیں بھول پائے گی ۔2002ء کے عا م انتخابات میں مسلم لیگ میں کچھ عرصہ کیلئے دراڑ آئی لیکن ان دونوں شخصیات کے درمیان احترام کا رشتہ کبھی نہ ٹوٹا۔2002ء کے الیکشن میں بیگم عفت لیاقت علی خان پی پی20سے کامیاب نہ ہوسکیں۔ ان کے مد مقابل چوہدری اعجازفرحت ( ق لیگ) تھے جبکہ ایم این اے کی نشست پر ق لیگ کے ٹکٹ پر میجر(ر) طاہر اقبال کامیاب ہوئے۔2001ء کے بلدیاتی انتخابات میں سردار غلام عباس ضلع ناظم بنے تھے لیکن جنرل عبدالمجیدملک اور سردارغلام عباس کے درمیان کچھ ہی عرصہ بعد دوریاں پیدا ہو گئیں۔ سیاسی میدان سے باہر نکلنا کسی بڑی شخصیت کیلئے آسان نہیں ہوتا۔ جنرل عبدالمجید ملک نے ایسی سیاسی حکمت عملی ترتیب دی کہ ان کے سیاسی مخالفین تمام تر سیاسی اثر ورسوخ ، اربوں کے ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری مشینری کی حمایت کے باوجود ناکام ہو گئے ۔جنرل عبدالمجید ملک نے 2006ء کے ضلع ناظم کے انتخابات میں ناکامی کا بدلہ 2008ء کے عام انتخابات میں لیا اور ساتھ ہی (ق) لیگ میں شمولیت کی غلطی کا کفارہ بھی ادا کردیا۔ اس الیکشن میں میجر(ر) طاہر اقبال کو ق لیگ کا ٹکٹ دیا جا چکا تھا ضلع ناظم سردار غلام عباس نے اپنے بھائی سردار نواب خان کو آزاد حیثیت سے اپنا امیدوار نامزدکردیا۔یہاں جنرل عبدالمجید ملک نے اپنی سیاسی بصیرت سے حلقہ این اے60کی کایا پلٹ دی ۔ میجر(ر) طاہر اقبال نے (ق) لیگ کا ٹکٹ واپس کردیا اور جنرل عبدالمجید ملک نے غیر مشروط طور پر مسلم لیگ ن کے نامزدامیدوار چوہدری ایازامیر اور پی پی 20میں چوہدری لیاقت علی خان کی حمایت کااعلان کردیا۔اس الیکشن میں جہاں جنرل عبدالمجید ملک نے ضلع ناظم سردار غلام عباس کے بھائی سردار نواب خان کوچوہدری ایازامیر سے بھاری اکثریت سے شکست دلواکر 2006کے ضلع ناظم کے الیکشن میں اپنی شکست کا بدلہ لیا۔وہاں دوسری جانب چوہدری لیاقت علی خان نے چوہدری اعجاز فرحت کو شکست دے کر 2002ء میں اپنی اہلیہ کی ناکامی کا حساب چکادیا ۔چوہدری لیاقت علی خان نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کے بعد آخری دم تک مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہے ۔ ملکی سیاست میں بڑے نشیب وفراز آئے لیکن انہوں نے کبھی مسلم لیگ (ن) کادامن نہ چھوڑااور ثابت قدم رہے ۔یہی خوبی ان کی سیاسی زندگی میں نمایاں رہی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ ان کی اٹل وابستگی کا ہر سطح پر اعتراف کیا گیا۔ضلع چکوال کی یہ دونوں سیاسی شخصیات اس لحاظ سے خوش قسمت رہیں کہ جب وہ اس دنیا سے رخصتہوئیں توان کے ذمہ کوئی سیاسی ادھار باقی نہ تھا۔ حلقہ کے عوام کی بھرپور محبت اور خلوص ہمیشہ ان کے ساتھ رہا۔ اسی وجہ سے کامیابیوں اور کامرانیوں نے ان کے قدم چومے۔ جنرل عبدالمجید ملک اور چوہدری لیاقت علی خان نے حلقہ کے عوام کی امنگوں اور نظریات کے مطابق فیصلے کیے جس کیو جہ سے ضلع چکوال کی سیاسی تاریخ انہیں ہمیشہ زندہ اور یاد رکھے گی ۔

ٹیگز :

Bottom Advert