عمران خان نااہلی سے بچ گئے، جہانگیر ترین نااہل قرار

No Photo

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا تعین الیکشن کمیشن کرے گا۔ اسلام آباد (سواں نیوز)— پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو نااہل قرار دینے کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست مسترد کردی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا تعین الیکشن کمیشن کرے گا۔ درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کر رہا تھا جس نے جمعے کو اپنا فیصلہ سنایا۔ فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پڑھ کر سنایا جس پر بینچ میں شامل باقی دونوں جج جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب کے دستخط بھی موجود ہیں۔ فیصلہ سنانے کا وقت دو بجے مقرر کیا گیا تھا، لیکن بینچ نے فیصلہ تقریباً سوا گھنٹے کی تاخیر سے 3:20 منٹ پر سنانا شروع کیا۔ چیف جسٹس نے ابتدائی کلمات میں تاخیر پر کورٹ روم پہنچنے پر معذرت کی اور کہا کہ فیصلے کے ایک صفحے پر غلطی تھی جس کی وجہ سے 250 صفحے پڑھنے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کو تحمل سے سنا جائے۔ تمام شواہد کا جائزہ لیا گیا۔ پی ٹی آئی پر غیرملکی فنڈنگ کا الزام لگایا گیا۔ درخواست گزار غیر ملکی فنڈنگ پر متاثرہ فریق نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نیازی سروسز کے نہ شئیر ہولڈر تھے اور نہ ڈائریکٹر۔ عمران خان نے فلیٹ ایمنسٹی اسکیم میں ظاہر کردیا تھا۔ الیکشن کمیشن چیئرمین تحریکِ انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کرے گا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیرملکی فنڈنگ کا معاملہ صرف وفاقی حکومت دیکھ سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین کا پابند ہے۔ الیکشن کمیشن غیر جانبدرانہ طور پر اثاثوں کی چھان بین کرے۔ الیکشن کمیشن گزشتہ پانچ سال تک کے اکاونٹس کی چھان بین کرسکتا ہے۔ فیصلے کے مطابق بنی گالہ اراضی کے لیے رقم جمائما نے دی۔ جمائما خان نے 4 لاکھ 17 ہزار 901 پاونڈ فراہم کیے۔ بنی گالہ اراضی عمران خان کو جمائما کی طرف سے تحفے میں ملی۔ طلاق سے پہلے عمران خان نے اراضی بیوی اور بچوں کے لیے لی۔ عمران خان نے گرینڈ حیات فلیٹ کا ایڈوانس پہلے ہی ظاہر کیا۔ عمران خان نے اثاثے نہیں چھپائے۔ عمران خان بے ایمانی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ حینف عباسی کی جہانگیر ترین کے خلاف درخواست کے فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ ہائیڈ ہاؤس پراپرٹی کے اصل مالک جہانگیر ترین ہیں۔ جہانگیر ترین نے 50 کروڑ روپے بیرونِ ملک منتقل کیے۔ آف شور کمپنی جہانگیر ترین کی ملکیت ہے۔ جہانگیر ترین پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بینیفیشل مالک پر جہانگیر ترین کا جواب واضح نہیں تھا۔ جہانگیر ترین نے اثاثے چھائے۔ جہانگیر ترین صادق اور امین نہیں رہے۔ عدالت نے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو جہانگیر ترین کی نااہلی کا نوٹی فیکشن جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے عدالت کے ساتھ سچ نہیں بولا۔ زرعی ٹیکس کم دینے پر جہانگیر ترین کی نااہلی کی استدعا کی گئی۔ جہانگیر ترین کے خلاف زرعی ٹیکس پر کارروائی نہیں کرسکتے۔ معاملہ متعلقہ فورم پر زیرِ التوا ہے۔ فیصلے کے مطابق جہانگیر ترین کے شیئر ہولڈر بننے سے پہلے قرض معاف ہوئے۔ بطور وفاقی وزیر جہانگیر ترین نے اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا۔ ایس ای سی پی نے جہانگیر ترین کے خلاف تحقیقات کیں۔ جہانگیر ترین نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور جرمانہ ادا کیا۔ سوال پیدا ہوا کہ کیا اعترافِ جرم پر نااہلی ہوتی ہے؟ ایس ای سی پی نے جہانگیر ترین کی پیشکش قبول کی تھی۔ جہانگیر ترین کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ انسائیڈ ٹریڈنگ پر جہانگیر ترین نے اعترافِ جرم کیا۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت عمران خان سپریم کورٹ میں موجود نہیں تھے البتہ جہانگیر ترین، تحریکِ انصاف کے ترجمان فواد چوہدری، درخواست گزار حنیف عباسی، وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر سیاسی شخصیات اس موقع پر کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس میں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد 14 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواستیں شریف خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کیس دائر کیے جانے کے بعد دائر کی گئی تھیں۔ اس وقت کے چیف جسٹس نے مئی 2016ء میں یہ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی تھیں۔ سپریم کورٹ میں سماعت میں عمران خان کی آمدن، رقوم کی منتقلی، لندن فلیٹ کی خریداری پر بحث حاوی رہی جبکہ جہانگیر ترین کی زرعی آمدن، آف شور کمپنی، برطانیہ میں جائیداد اور اِن سائڈ ٹریڈنگ توجہ کا مرکز رہی۔ عمران خان نے بارہا عدالت میں مکمل منی ٹریل دینے کا دعوٰی کیا تاہم حنیف عباسی کے وکلا نے عمران خان پر بار بار مؤقف بدلنے کا الزام لگایا اور سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی پی ٹی آئی کی جانب سے دستاویزات فراہم کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا۔ مذکورہ کیس پر وکلا نے 100 گھنٹے سے زائد دلائل اور 73 مقدمات کے حوالے دیے جبکہ اس دوران درجن بھر ممالک کی اعلٰی عدلیہ کے تقریباً تین درجن فیصلوں کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ سپریم کورٹ نےدرخواستوں کی 50 سماعتیں کیں اور یہ کیس ایک سال تک چلا۔ مقدمے میں اہم موڑ اس وقت آئے جب عمران خان نے مؤقف میں تبدیلی کی استدعا کی اور جہانگیر ترین نے لیز پر لی گئی اراضی کا سرکاری ریکارڈ نہ ہونے کے ساتھ ٹرسٹ کے تاحیات بینیفشری ہونے کا اعتراف کیا۔

ٹیگز :