Top Advert

شمالی وزیرستان: فوجی گاڑی پر فائرنگ، افسر سمیت دو اہلکار ہلاک

No Photo

آئی ایس پی آر کے مطابق 21 سالہ عبدالمعید کا تعلق وہاڑی سے تھا اور وہ حال ہی میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے فارغ ہوئے تھے۔ سپاہی بشارت کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔ پشاور — افغانستان سے منسلک پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی ایک گاڑی پر مبینہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک افسر سمیت دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق واقعہ شمالی وزیرستان کی تحصیل بویا میں پیش آیا جس میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت سیکنڈ لیفٹننٹ عبدالمعید اور سپاہی بشارت کے ناموں سے ہوئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 21 سالہ عبدالمعید کا تعلق وہاڑی سے تھا اور وہ حال ہی میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے فارغ ہوئے تھے۔ سپاہی بشارت کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔ حکام کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ کے اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔ کالعدم شدت پسند تنظیم 'تحریکِ طالبان پاکستان نے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک پیغام میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے دعویٰ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی طالبان کی خصوصی فورس نے شاہ علی خیل نامی علاقے میں کی جس میں بیان کے مطابق چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں پچھلے چند ہفتوں سے دہشت گردی کے واقعات تواتر سے رونما ہورہے ہیں اور اسی وجہ سے حکام نے مقامی لوگوں کو سڑک کے کنارے کھڑے ہونے اور گاڑیاں پارک کرنے سے منع کر رکھا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کے بعد مقامی لوگوں کو قبائلی علاقہ جات میں نافذ 'فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن' کی علاقائی ذمہ داری کی دفعات کے تحت اجتماعی جواب دہی کرنا پڑتی تھی جس کے باعث مقامی قبائل میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

ٹیگز :

Bottom Advert