Top Advert

پاکستان میں مظاہرے، امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

No Photo

امریکی سفارت خانے نے پاکستان میں اپنے شہریوں کو اپنی سلامتی سے متعلق انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد — امریکہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں حکومت سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران امریکی سفارت خانے نے پاکستان میں اپنے شہریوں کو اپنی سلامتی سے متعلق انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ سفارت خانے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد ہونے والے بعض مظاہرے پرتشد بھی ہو سکتے ہیں، لہٰذا امریکی شہری اپنی ذاتی سکیورٹی میں احتیاط برتیں۔ سفارت خانے کے بیان میں امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی کی صورت حال سے آگاہی کے لیے مقامی میڈیا پر نظر رکھیں جب کہ امریکی شہریوں کو مظاہروں کے قریب علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق سکیورٹی صورتِ حال کے سبب امریکی سفارت خانے نے امریکی حکومت کے پاکستان میں ملازمین کی نقل و حرکت عارضی طور پر محدود کر دی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے اور جمعے کو نماز کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں امریکی فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔اسلام آباد میں سب سے بڑی ریلی جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔اس احتجاجی ریلی سے قبل وفاقی دارالحکومت میں خاص طور پر سفارت خانوں کی طرف جانے والے راستے پر جمعے کی صبح ہی سے سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں امریکی انتظامیہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کو دارالحکومت تسلیم کرنے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس سے قبل جمعرات کو قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرار دار منظور کی تھی جس میں امریکہ کے صدر کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کی مذمت کی گئی تھی۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ امریکی فیصلے نے مسلمان دنیا کو ایسے وقت متاثر کیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی تنازعات اور جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ پاکستان نے اس معاملے پر غور کے لیے آئندہ ہفتے ترکی کی طرف سے اسلامی ممالک کا سربراہ اجلاس بلانے کا خیر مقدم کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے مشرق وسطیٰ کے ’’دو ریاستی حل‘‘ پر کوئی اثر پڑے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک فلسطین اور اسرائیل کے درمیان قابل قبول امن معاہدے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ تاہم ان کے اس فیصلے پر مسلمان اور یورپی ملکوں اور عالمی اداروں نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے

ٹیگز :

Advert