Top Advert

ضلع چکوال کی انتخابی سیاست میں پھر نیا موڑ آگیا

No Photo

چکوال(عاطف رشید سے) ضلع چکوال کی انتخابی سیاست میں پھر نیا موڑ آگیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی ہائی کمان نے حلقہ این اے64 پر راجہ یاسر سرفراز کو ٹکٹ کیلئے درخواست دینے کی ہدایت جاری کر دی جس پر راجہ یاسر سرفراز نے حلقہ این اے 64سے پارٹی ٹکٹ کیلئے درخواست دیدی۔ راجہ یاسر سرفراز نے 2013کے الیکشن میں چند روز قبل ہی الیکشن مہم شروع کی تھی اور 47ہزار ووٹ حاصل کرکے پاکستان تحریک انصاف اور سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کرلی تھی۔ سردار غلام عباس جنہوں نے حال ہی میں مسلم لیگ ن کو چھوڑا ہے وہ بھی حلقہ این اے64پر الیکشن لڑیں گے اور اس حلقے پر ان کے پاکستان تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اگر سردار غلام عباس حلقہ این اے64کی ایک ہی نشست پر راضی ہوجائیں تو پھر مسئلہ کوئی نہیں ہے مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ سردار غلام عباس پی پی23پر بھی اپنا امیدوار سردار آفتاب اکبر نامزد کرانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے پی ٹی آئی اور سردار غلام عباس کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک پایے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کی مسلم لیگ ق کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ طے پاچکی ہے لہٰذا این اے65پر چوہدری پرویز الہٰی یا حافظ عمار یاسر کے ایڈجسٹ ہونے کا امکان ہے۔ اْدھر پی ٹی آئی کا پارلیمانی بورڈ ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدواروں کے انٹر ویو بدھ کو کریگا۔ پارلیمانی بورڈ ہر نشست پر تین امیدواروں کے نام پارٹی کے چیئرمین عمران خان کو بھیجے گا جن میں سے عمران خان ایک نام حتمی کریں گے۔سردار غلام عباس اور سردار آفتاب اکبر نے پی ٹی آئی کے کسی بھی حلقے سے ٹکٹ کی درخواست جمع نہیں کرائی ہے۔معتبر ذرائع اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ حلقہ این اے64میں سردار غلام عباس کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دیا تو پھر حلقہ پی پی21سے راجہ یاسر سرفراز کے الیکشن لڑنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ پی پی22پر ٹکٹ کا مقابلہ راجہ منور احمد، پیر وقار کرولی، ملک اختر شہباز، راجہ طارق افضل کالس اور چوہدری صلاح الدین میاں مائر کے درمیان ہے۔ پی پی24پر پی ٹی آئی کی طرف سے صرف کرنل سلطان سرخرو کی درخواست سامنے آئی ہے۔

ٹیگز :

Bottom Advert