Top Advert

چکوال کی قدیمی درسگاہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال کے شعبہ کیمسٹری میں طالبات کو شرمناک سلوک کا نشانہ بنایاجاتارہا،افسوسناک انکشافات

No Photo

چکوال ( ڈسٹرکٹ رپورٹر) چکوال کی قدیمی درسگاہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال کے شعبہ کیمسٹری میں افسوسناک صورتحال منظر عام پر آئی ہے ‘شعبہ کیمسٹری کے سربراہ نے نوجوان طالبات کے نقاب اتروا کر موبائل پر تصویریں بنا لیں اور انہیں سر عام انسانیت سوز تذلیل کا نشانہ بنایا ، پروفیسر کے خلاف انکوائریوں کے باوجود کوئی اس کا بال بھیکا بھی نہ کر سکا ۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال کے شعبہ کیمسٹری کے سربراہ پروفیسر کے خلاف بی ایس کی درجن سے زائدطالبات نے ڈپٹی کمشنر چکوال کو تحریری درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پروفیسر موصوف 2016سے بی ایس کی کلاسزباقاعدگی سے نہیں پڑھا رہے نیز پروفیسر موصوف کا رویہ طالبات کے ساتھ نامنصفانہ ہے اور مڈٹرم امتحانات میں 10ہزارروپے فی طالبہ رشوت طلب کی جاتی ہے تاکہ طالبات کے امتحانات میں نمبرز زیادہ سے زیادہ لگائے جا سکیں اور جوطالبہ 10ہزارروپے نہ دے اس کے نمبر کم لگائے جاتے ہیں ۔جس کی وجہ سے طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے ۔ طالبات کی جانب سے دی جانے والی اس تحریری درخواست کے بعد پروفیسر مشتعل ہو گیا اور اس نے طالبات کو ہراساں کرناشروع کردیا کہ وہ درخواست کی پیروی نہ کریں اور درخواست کو من گھڑت قرار دیںاس ضمن میں اس نے متعدد طالبات سے زبردستی تحریری بیانات بھی لکھوا لئے ۔مہ رخ ،مینائل علیم اور مقدس نامی بی ایس کی آٹھویں سمسٹر کی طالبات نے صدائے احتجاج بلند کی تو ان کے کلاس کے سامنے نقاب اتروا کر ان کی موبائل پر تصاویر اور وڈیو بنائی اور ان کو ذہنی طور پر ٹارچر کیا۔جس کی وجہ سے طالبات کی عزت نفس مجروع ہوئی ۔اس واقعہ کی تحریری شکایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز چکوال سمیت ماہرین تعلیم ارشد شاہین ، اعجاز جنجوعہ اور سابق پرنسپل راجہ سلیم انور نے تحقیقات کیں اور طالبات نے پروفیسر کو مورد الزام ٹھہرایا ۔جبکہ اس واقعہ کی اب تک کی جانے والی متعدد انکوائریوں میںپروفیسر کے انسانیت سوز سلوک کی تصدیق ہو گئی لیکن پروفیسر ابھی تک گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اوران کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جبکہ متاثرہ طالبات کے خلاف انتقامی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے ۔متاثرہ طالبات نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ پروفیسر کی جانب سے کئے جانے والے ناروا سلوک کا نوٹس لیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔

ٹیگز :

Bottom Advert